Sharmila Farooqi

Sharmila Farooqi is a Pakistani politician who served as an advisor to the Chief Minister of Sindh from September 2008 till January 31, 2011.[1][2] She is the granddaughter of N M Uqaili and daughter of Usman Farooqi, who was a bureaucrat and a former Chairman of Pakistan Steel Mill. Farooqi is the niece of Salman Farooqi, a well-known confidante of President Asif Ali Zardari.[3] Farooqi earnt a master’s degree in business administration from the Adamson Institute of Business Administration and Technology, Karachi and a master’s degree in law.[3] She is engaged to Hashaam Riaz Sheikh.[4]
Enhanced by Zemanta

تو کیوں نہ سب کو اکھاڑ دیں

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نا پایا تو کدھر جائیں گے

حالانکہ بھورو بھیل کو بھی اسی خدا نے پیدا کیا اور مارا جس نے سندھ کے ضلع بدین کے قصبے پنگریو کے حاجی فقیر قبرستان میں پہلے سے دفن سیکڑوں مسلمان اور دس ہندو بھیلوں کو پیدا کرکے مارا۔ ضلع بدین کے ایک اور قصبے ٹنڈو باگو کے بچل شاہ قبرستان میں دفن ہونے والے اللہ ڈینو بھیل کی بھی پیدائش و موت کی یہی کہانی ہے جو باقی انسانوں کی ہے۔

بھورو بھیل اور اللہ ڈینو بھیل نے بھی اپنی زندگی وہی زبان بولتے ، وہی لباس بدلتے ، وہی کھانا پینا کرتے ، وہی استحصال سہتے ، وہی خوشیاں غمیاں بھوگتے گذاری جو ساتھ کے مفلوک الحال مسلمان گذار رہے ہیں۔کسی ہندو یا مسلمان زمیندار نے ان بھیلوں سے زندگی میں یہ کہہ کر فصل کٹوانے ، مویشی چروانے یا اپنی زمین پر جھونپڑا ایستادہ کرنے سے منع نہیں کیا کہ تم ایک غلیظ نسل ہو۔خبردار میری زمین پر اپنے ناپاک قدم نا رکھنا۔لیکن جب بھورو بھیل اور اللہ ڈینو بھیل مرے تو خدا کی زمین خدا کے بندوں کے لیے خدا کے بندوں نے تنگ کردی اور ان کی لاشوںکو قبرستان سے نکال پھینکا۔اور جنھوں نے یہ کام کیا انھیں شائد احساس تک نا ہوکہ جس زمین کو وہ اپنا سمجھ رہے ہیں یہ تو صرف ہزار سال سے ان کی ہے۔جب کہ اس زمین کا چپہ چپہ بھیلوں کے ناپاک قدموں سے سات ہزار سال سے آلودہ چلا آ رہا ہے۔

مگر کم ازکم یہ تو ہوا کہ جن قبرستانوں میں کبھی دیوار نہیں کھچی اب کھچ رہی ہے۔ہو سکتا ہے اس بہانے ایک طرف والے قبر کے عذاب سے زیادہ محفوظ رہیں۔اور اگر واقعی الارضُ اللہ و الحکمُ اللہ کا یہی مطلب ہے کہ خدا کی زمین کو زندوں کے ساتھ ساتھ مردوں میں بھی تقسیم کردیا جائے تو پھر اسی سندھ میں چند اور مقامات کی نشاندہی بھی مناسب رہے گی تاکہ خدائی فوج داروں کو خدا کی زمین پاک کرنے میں اور آسانی ہو جائے۔

تو سب سے پہلے بھٹ شاہ چلیے اور لطیف سائیں کے مریدِ خاص مدن لال کی قبر اکھاڑ پھینکیے جو بالکل لطیف سائیں کی بغل میں موجود ہے۔تعجب ہے کہ اللہ ڈینو بھیل کی لاش قبر سے نکلوانے والے مولانا اللہ ڈینو خاصخیلی کی سمجھ میں جو نکتہ آگیا وہ لطیف سائیں جیسے صاحبِ کشف و جذب کے روحانی وارثوں کو سمجھ میں نہیں آیا کہ مرشد کی قبر کے برابر کسی غیر مسلم کی قبر کا عذاب کتنا بڑا ہے ؟ معلوم نہیں اس وقت لطیف سائیں آسمانوں میں کیسی آگ میں جل رہے ہوں گے۔

اور جب آپ بھٹ شاہ دربار کو ناپاک مدن لال سے پاک کردیں تو پھر ٹھٹھہ کے علاقے جھوک شریف میں مساواتِ انسانیت کے علم بردار صوفی شاہ عنایت کے مزار کا رخ کر لیں۔آپ کو دور سے ہی دربارِ عنایت سے متصل میدان میں سیکڑوں قبریں دکھائی دے جائیں گی جن پر گیروی چادریں پھڑپھڑا رہی ہیں اور گیروے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ہو سکتا ہے ان میں سے کوئی قبر شاہ عنایت کے مرید ایسر داس کی ہو جنھوں نے ساڑھے تین سو اشعار کا جنگ نامہ لکھ کر دنیاوی و روحانی جاگیرداری کے خلاف صوفی شاہ عنائت کی جدوجہد کو محفوظ کر دیا اور پھر تلاش کیجیے گا کہ ایسر داس کے مرید دلپت رام اور پھر فقیر مسکین داس بھی کہیں آس پاس دفن نا ہوں۔ آپ کو شناخت میں ذرا محنت کرنی پڑے گی کیونکہ یہ فقیر لوگ شائد دو ڈھائی سو برس پہلے ہی بھانپ گئے تھے کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئے گاجب دارلسلام میں دفن مردوں کو بھی ہجرت کرنی پڑ سکتی ہے لہذا ان چالاک درویشوں نے قبر پر کتبہ لگانا مناسب نہ سمجھا ہو۔

ارے ہاں ! میر پور خاص سے عمر کوٹ جاتے ہوئے راستے میں پیر پتھورو کے مزار کو نا بھولیے گا۔میگھواڑ مدن اور سونالی بائی کے اس بچے نے جانے حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے دل پر کیا جادو کیا کہ انھوں نے اس بچے سے دودھ منگوا لیا اور یہ بچہ مرشد کی فرمائش پوری کرنے کی عجلت میں اپنے ہی ناپاک برتن میں دودھ بھر کے اڑتا ہوا ملتان پہنچ گیا۔تب ہی تو دربارِ بہاؤ الدین سے پروانہِ خلافت جاری ہوا کہ میگھواڑوں کو اب پاپیادہ ملتان آنے کی ضرورت نہیں۔پتھورو جہاں گھوڑے سمیت زمین میں غائب ہوگیا وہیں پر حاضری دو اور سمجھو کہ دربارِ بہاؤ الدین میں حاضری دے دی۔آج بھی پیر پتھورو کے عرس پر سیکڑوں ہندو مسلمان گوالے ہزاروں ہندوؤں اور گمراہ مسلمانوں کو دودھ میں نہلا دیتے ہیں۔

اور حیدرآباد سے تیس کلو میٹر دور اوڈیرو لال کو بھی کفر سے پاک کرنا نہ بھولیے گا جہاں آج تک یہی طے نہیں ہو پایا کہ جس اوڈیرو لال کے لیے ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ’’ جھولے لال بیڑا پار’’ کا نعرہ لگاتے ہیں وہ دراصل شیخ طاہر بھرکو ہے کہ اوڈیرو لال۔بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ ایک طرف سمادھی ہے اور دوسری طرف قبر اور ہندو اور مسلمان سمادھی اور قبر دونوں پر پھول چڑھاتے ہیں اور پھر مسلمان مندر کی دیوار سے ملی مسجد میں نمازِ فجر کی صف باندھ لیتے ہیں اور ہندو گھنٹی دار بھجن گانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

اور یہ شاعرِ ہفت زباں سچل سرمست۔جس کو یہی نہیں پتہ کہ ایک ہی کلام میں نعوذ باللہ گیتا ، قرآن ، کرشن اور اللہ کا ذکر ساتھ ساتھ نہیں کرتے۔اگر یہ پتہ ہوتا تو کبھی بھی اپنے مزار کے پائنتی مسلمان اور ہندو قبریں ساتھ ساتھ بننے نا دیتا۔پس اب یہ خوش عقیدہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ سچل کے دربار کو بھی اس علت سے پاک کر دیں۔

مگر یہ مسئلہ سندھ تک تھوڑا ہی محدود ہے۔ بائیس دسمبر کو یہ ایمان افروز خبر موصول ہوئی کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قصبے کھٹو والی کے چک تین سو بارہ جے بی میں کچھ صاحبِ عقیدہ جوانوں نے ایک احمدی دہاڑی دار مزدور وحید احمد کی نمونیے سے مرنے والی ڈیڑھ سالہ بیٹی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا۔احمدیوں نے احتجاجاً تین دن تک بچی کو بلا تدفین رکھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قبرستان پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مسلمانوں کا۔ کیونکہ آدھی زمین احمدیوں نے عطیہ کی تھی۔ بالاخر ایک مسلمان زمیندار نے قبرستان سے تین سو میٹر دور اپنی زمین کا ایک ٹکڑا عطیہ کردیا اور یوں بچی کو قبر کی مٹی نصیب ہوگئی۔ ڈیڑھ سال کے بچے کو کم ازکم یہ شعور تو ہونا ہی چاہیے کہ اس کا مذہب کیا ہے۔۔۔۔۔

لیکن پرانے کیسوں کا بھی تو کچھ ہونا چاہیے۔مثلاً لاہور کے باغبان پورہ میں پنجابی کافی کی ادبی صنف کے بانی اور میلہ چراغاں کے مہمانِ خصوصی شاہ حسین کے روضے میں ان کے ہندو محبوب مادھو لال کی قبر اب تک زرد چادر اوڑھے مرشد کی سرخ چادر والی قبر کو تک رہی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی اچھی بات تو نہیں لیکن اس کا کیا علاج کہ مادھو کے بغیر شاہ حسین مادھو لال حسین کیسے کہلائے۔

( جیسے ابھے چند کے بغیر سرمد کی کیا حیثیت ؟ تبھی تو اورنگ زیب کے علماء نے سرمد کا سر اڑوا کے دین بچا لیا۔مگر کس کا دین ؟ اپنا یا سرمد کا ؟ یہ آج تک بحث طلب ہے )۔

اور اسی لاہور کے دھرم پورہ میں سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو سنگھ کے دوست اور گولڈن ٹمپل امرتسر میں سکھوں کی سب سے اہم مذہبی عمارت ہرمندر صاحب کا سنگِ بنیاد رکھنے والے حضرت میاں میر کا بھی مزار ہے ؟ تو پھر کیا حکم ہے، اس سکھ دوست کمزور عقیدہ میاں میر کے بارے میں؟

اور بابا گرونانک کے عقیدے اور ننکانہ صاحب کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ اب ہو ہی جانا چاہیے۔کیونکہ جب سن پندرہ سو انتالیس میں نارووال کے گاؤں کرتار پورہ میں بابا جی کا انتقال ہوا تو دو گروہوں میں ان کے عقیدے کے بارے میں ٹھن گئی۔ایک کہتا تھا بابا جی مسلمان نہیں۔ دوسرا کہتا تھامسلمان ہیں۔اگلے روز جب گرونانک کے جنازے پر سے چادر ہٹائی گئی تو بس پھول پڑے تھے۔ آدھے ہندو لے گئے اور آدھے مسلمان۔ہندوؤں نے سمادھی بنالی مسلمانوں نے پھول دفن کردیے۔

اور یہ کیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے محلے چاہ سئید منور کے قبرستان میں آج بھی ہندوؤں، سکھوں، گورے اور کالے عیسائیوں اور عام مسلمانوں اور اب تو طالبان کی بھی قبریں ساتھ ساتھ ہیں ؟

لیکن بات صرف یہیں ختم نہیں ہونی چاہیے کہ ایک عقیدے والوں کے قبرستانوں میں دوسرے عقیدے والے کیوں جگہ پائیں؟ بات تو تب ہے جب پاک سرزمین کو سب کمزور ایمان مشرکین سے قبروں سمیت پاک کردیا جائے۔بھلے وہ بونیر کے پیربابا ، پشاور کے رحمان بابا یا داتا گنج بخش لاہوری کے مزار پر خودکش حملہ ہو کہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں احمدیوں کے نجی قبرستان میں ایک سو بیس قبروں کے کتبوں کو اکھاڑ پھینکنے کی کارروائی یا کراچی کے گورا قبرستان میں قبر پر لگی صلیبوں اور سنگِ مرمر کو رات اندھیرے میں غائب کرنے کی کوششیں یا پھر میوہ شاہ میں گڑے چند یہودیوں کی قبروں کی توڑ پھوڑ۔کام تو شروع ہوچکا ہے۔دیکھیں کب تک پایہ تکمیل کو پہنچے ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اس کارِ خیر میں ہر مذہب کے راسخ العقیدہ ’’جہاں جس کا بس چل جائے ’’ کی بنیاد پر شامل ہوچکے ہیں۔جیسے 1992ء میں ایودھیا میں بابری مسجد شہید کردی گئی تو اس کے جواب میں بنگلہ دیش میں تین سو ستاون اور پاکستان میں دو سو بیالیس مندر اور کچھ چرچ ہلاک و زخمی ہوگئے۔2002ء میں گجرات میں ہندو سرفروشوں نے دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اردو کے بنیادی شاعر ولی گجراتی کے تین سو برس پرانے مزار اور چار سو برس قدیم دو مساجد سمیت مسلم دور کی دو سو تیس یادگاروں کو بھی ناپاک قرار دے کے صاف کردیا۔اسی گجرات میں پچھلے برس جنوری میں صابر متی کرسچن قبرستان پر مقامی انتظامیہ نے بلڈوزر چڑھا دیے مگر صفائی کے بعد کرسچن کمیونٹی سے معذرت بھی کی۔جب کہ مہاراشٹر کے شہر پانویل میں مسلمان بستی کے مکینوں نے بستی پاک کرنے کے لیے ایک یہودی قبرستان کی ایسی تیسی کردی۔فروری 2012ء میں مشرقی یروشلم میں کچھ یہودی ’’مومن‘‘ مسلمانوں کے تاریخی قبرستان مامیلہ میں گھس گئے اور بارہ سے زائد قبروں کے کتبے اکھاڑ پھینکے اور بہت سوں پر اسپرے سے ستارہِ داؤدی بنا دیا۔

4 مارچ 2012ء کو لیبیا کے شہر بن غازی میں دوسری عالمی جنگ کے فوجی قبرستان میںکچھ جوشیلے مسلمانوں نے برطانوی عیسائی فوجیوں کی قبریں اکھاڑ دیں۔جون 2013ء میں برطانوی قصبے نیو پورٹ کے قبرستان میں شدت پسند نیونازیوں نے مسلمان قبروں پر سواستیکا کا نشان بنا دیا اور بہت سے کتبے توڑ دیے۔ اپریل 2013ء میں پیرس کے قریب شدت پسند قوم پرستوں نے بیس سے زائد مسلمان قبروں کے کتبے توڑ ڈالے اور نوٹرے ڈیم میں پہلی عالمی جنگ کے قبرستان میں ایک سو اڑتالیس مسلمان قبروں کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا۔

یہود و نصاریٰ و ہنود تو خیر ہیں ہی شرپسند۔مگر میں نے قرآنِ کریم میں کوئی ایسی آیت تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے یہ اشارہ مل جائے کہ ارضِ خدا پر ہر مذہب والوں کا الگ قبرستان ہونا چاہیے۔منافقوں کے سردار عبداللہ ابن ِ ابی کی لاش کے لیے اپنا مبارک کرتا مرحمت فرمانے والے رحمت العالمینؐ کی احادیثِ مبارکہ کے مجموعوں کی بھی کچھ ورق گردانی کی تاکہ یہ عندیہ مل جائے کہ اگر کسی ایک مذہب کے قبرستان میں کسی دوسرے عقیدے والے کو دفن کردیا جائے تو اس کی لاش نکال پھینکی جائے۔لیکن کوئی ایسی مستحکم حدیث بھی نا مل پائی۔ لگتا ہے اس بارے میں جو بھی طے ہوا وہ بعد کے علماء نے اجتہادی طور پر اپنے اپنے معروضی حالات دیکھ کر طے کیا مگر اب بلا امتیازِ مذہب و ملت دنیا بھر کے شدت پسندوں میں یہی سکہِ رائج الوقت ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ روزنامہ “ایکسپریس

 

کیا ہمارے مذہبی رہنما ایسا کر سکتے ہیں؟


دوستوں کی محفل میں عالم اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں سے متعلق گرما گرم بحث جاری تھی،امریکہ کو بُرا بھلا کہنے اور یہودیوں کو کوسنے کا سلسلہ عروج پر تھا۔ایک مذہبی جماعت کے ترجمان نے گرم چائے کا کپ ہونٹوں سے ہٹاتے ہوئے جیو نیوز کو بھی لپیٹ دیا۔ میں نے بصد احترام پوچھا،اگر جیو پر تعلیم کے فروغ کیلئے مہم چلائی جا رہی ہے تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟ پڑھنے لکھنے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا،اس سلوگن میں کیا برائی ہے؟ انہوں نے بھنّا کر کہا،پاکستان کا مطلب کیا،لاالہ الا اللہ جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے آپ اسے ہی گرا رہے ہیں اور پوچھتے ہیں ،آپ کو کیا اعتراض ہے۔

سامنے تشریف فرما ایک اور مذہبی جماعت کے انقلابی رہنما اور مرکزی ترجمان نے نہ صرف گرہ لگائی بلکہ بات کچھ یوں آگے بڑھائی،یہ جو آپ کا نعرہ ہے نا، اگر آگے بڑھنا ہے تو الف ب پہ یقین رکھنا ہے، یہ الف،ب مخفف ہے امریکہ بہادر کا۔ یعنی اگر آگے بڑھنا ہے تو امریکہ بہادر پہ یقین رکھنا ہے۔ یہ ہیں اس قوم کے رجالان دین جسے ’’گھٹّی‘‘ ہی اقراء کی دی گئی،جسے کہا گیا کہ ماں کی گود سے قبر تک حصول علم سے دستکش نہ ہونا،یہ سوچ ہےاس شریعت کے علمبرداروں کی جو حصول علم کیلئے نکلنے والے کی موت کو شہادت کا درجہ دیتی ہے۔ جب امریکہ کی عظمت و سطوت کا ناقوس بجتا ہے تو ہمارے ہاں نوحوں اور مرثیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

میں حیران ہوں کہ اس میں جلنے کڑھنے اور کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب تک علم و تحقیق کا عَلم ہمارے ہاتھ میں تھا،دنیا کی قیادت بھی ہمارے پاس تھی۔جب تک ہم کوتاہ دستی کے سبب بیمار نہیں ہوئے اور عقل و خرد کے گھوڑے پر سوار رہے، دشت و دریا ہماری ہیبت سے لرزاں تھے،زمانہ ہماری جنبش لب کامنتظر رہتا اور مورخ ہماری ہی شان میں قصیدہ کہتا۔مگر آج امریکہ علمی و فکری میدان میں سرفہرست ہے تو سب اس کی چاکری کرتے اور قصیدے پڑھتے ہیں۔چند روز قبل سائنسی جرنلز کی درجہ بندی اور تحقیق کا معیار جانچنے والے ایک ادارے SJR نے رپورٹ جاری کی۔امریکہ میں گزشتہ 16برس کے دوران 70لاکھ تحقیقی مقالے شائع ہوئے اور سائنسی جرائد کی تعداد کے لحاظ سے بھی امریکہ سب سے آگے ہے اس لئے اس کے رینکنگ پوائنٹس 1380ہیں۔ دوسرے نمبر پر چین، تیسرے نمبر پر برطانیہ جبکہ چوتھے اور پانچویں نمبر پر جرمنی اور جاپان ہیں۔ اگر امریکہ کے بعد سرفہرست چاروں ممالک کے تحقیقی مقالوں کی تعداد جمع کر لی جائے تو بھی امریکہ کے مقابلے میں کم ہے۔ 1996ء سے 2012ء تک کے دوران 20لاکھ تحقیقی مقالے کی اشاعت کے ساتھ چین دوسرے نمبر پر ہے جبکہ جرنلز کی تعداد کے لحاظ سے چین کی کریڈٹ رینکنگ 385 ہے۔ چین میں بھی چند عشرے قبل تحقیق کا فقدان تھا۔ چینی حکمرانوں نے یہ بات محسوس کی کہ ان کے ہاں نقل کرنے اور کاپی کرنے کا کام تو نہایت مہارت کے ساتھ کیا جاتا ہے لیکن ایجادات و اختراعات کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا چینی حکومت نے اکیڈمی آف سائنسز کی بنیاد رکھی اور یہ اعلان کر دیا کہ جس محقق کا مقالہ کسی سائنٹیفک جرنل میں شائع ہو گا،اسے 30 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔

ہمارا ہمسایہ ملک ایران جہاں ہم سے کہیں زیادہ مرگ بر امریکہ کے نعرے گونجتے ہیں اور امریکہ کو شیطان عظیم کہا جاتا ہے ،وہاں بھی تمام تر اقتصادی پابندیوں کے باوجود تحقیق کا معیار ہمارے مقابلے میں بلند ہے۔ اس عرصے کے دوران ایران میں 202807 تحقیقی مقالے شائع ہوئے جبکہ سائنسی جریدوں کی تعداد اور معیار کے لحاظ سے ایران کی ریٹنگ135ہے۔ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی اسکاٹ لینڈ کی گلاسگو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں۔ ان کی کابینہ امریکہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس اور اسپین کے مقابلے میں زیادہ کوالیفائیڈ ہے۔ ایرانی صدر کے چیف آف اسٹاف محمد نہاوندیان نے امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔وزیر خارجہ اور ایٹمی قضیے پر مرکزی مذاکرات کار جواد ظریف بھی اسی شیطان عظیم امریکہ سے پی ایچ ڈی کر کے لوٹے۔ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بھی امریکہ سے نیوکلیئر انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی۔ محمود وائزی جو کمیونی کیشن کے وزیر ہیں انہوں نے بھی امریکہ کی لوزیانا یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی جبکہ وزیر ٹرانسپورٹ عباس احمد اخوندی برطانیہ سے پی ایچ ڈی کر کے اپنے ملک کی خدمت کر رہے ہیں ۔میں اس روش کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہا،آپ اپنی جبلت سے مجبور ہو کر امریکہ کو گالیاں دیتے ہیں تو دیں،اس کے جھنڈے جلائیں یا ہتھیلی پہ سرسوں اگائیں،کم از کم ان کافروں کے ملک پڑھنے ضرور جائیں۔

ہم بھارت سے مسابقت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی قطار شمار میں نہیں۔ یقین نہیں آتا تو اسی رپورٹ میں موازنہ کر کے دیکھ لیں۔بھارت میں گزشتہ 16سال کے دوران 750777 مقالے شائع ہوئے جبکہ پاکستان میں صرف 58133۔سائنسی جرائد کی اشاعت کے حساب سے بھارت کی ریٹنگ چین سے قریب تر ہے یعنی چین کی 385 اور انڈیا کی 301 مگر پاکستان کی ریٹنگ111 ہے۔دنیا بھر میں عالمی سائنسی جریدوں کی تعداد 202807ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ امریکہ سے شائع ہوتے ہیں جن کی تعداد 5605ہے۔

معیار کے لحاظ سے امریکی جریدہ ’’سائنس‘‘ 739انڈیکس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے 369سائنسی جریدے نکلتے ہیں جبکہ سب سے معیاری جرنل کرنٹ سائنس کاانڈیکس ریٹ 63ہے ۔پاکستانی جرنلز کی تعداد صرف 85 ہے اور سب سے بہترین جرنل ’’جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن JPMA) (‘‘ کا انڈیکس ریٹ 23ہے۔دنیا بھر میں نالج بیسڈ اکانومی کا تصور پختہ تر ہوتا جا رہا ہے یعنی آپ نے خوشحالی کی دہلیز پر قدم رکھنا ہے تو الف ب پہ یقین رکھنا ہے اور تعلیم کے شعبہ میں سرمایہ کاری کو پہلی ترجیح سمجھنا ہے۔ ورلڈاکنامک فورم کی درجہ بندی کے مطابق انڈونیشیا میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی شرح 27 فیصد ہے جبکہ نالج بیسڈ اکانومی کی دوڑ میں یہ ملک69ویں نمبر پر ہے۔ چنانچہ اس کی سالانہ ویلیوایڈڈ سروسز برآمدات 120ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں ۔ملائیشیا دوسرا رول ماڈل ہے جہاں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے مواقع 30فیصد ہیں جبکہ نالج بیسڈ اکانومی کے لحاظ سے 38ویں نمبر پر ہے۔ملائیشیا میں تو ایک شہر تعلیم بسایا گیا ہے جس کا رقبہ سنگا پور سے تین گنا زائد ہے۔اس شہر تعلیم میں عالمی معیار کی 7یونیورسٹیاں موجود ہیں۔تُرکی اس ضمن میں امت مسلمہ کے قائد کا کردار ادا کر رہا ہے جہاں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی شرح 38فیصد ہے۔ترک یونیورسٹیوں سے منسلک43 ٹیکنالوجی پارکوں میں سرگرم عمل 700کمپنیاں سالانہ 750ملین ڈالر کا زرمبادلہ کما رہی ہیں ۔ہمارا پیارا پاکستان اس درجہ بندی میں 160ممالک میں 122ویں نمبر پر ہے اور یہاں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی شرح 7.8فیصد ہے۔ ایسے میں کوئی ادارہ الف ب پ پر یقین رکھنے کی بات کرے تو اس پر الزامات کی برسات ہو جاتی ہے۔

ہم جن یہودیوں کو مطعون کرتے رہتے ہیں انہوں نے 1969ء میں چندہ مہم شروع کی اور ایک بلین ڈالر جمع کر کے اسرائیل کے چیف ربی کے پاس بھجوائے تاکہ اس سے ایک عظیم الشان سنگاگ تعمیر کرایا جائے۔چیف پروہت نے کہا،خدا کو کسی محل کی حاجت نہیں ،اس کی عبادت تو کسی جگہ بھی ہو سکتی ہے،اس خدا کو پانے کیلئے علم ضروری ہے لہٰذا جائو اور اس سے ایک ایجوکیشن ٹرسٹ بنائو چنانچہ 1970ء میں دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی ٹرسٹ اسرائیل میں قائم ہوا۔ کیا ہمارے مذہبی رہنما ایسا کر سکتے ہیں؟

محمد بلال غوری

بشکریہ روزنامہ “جنگ