اسلام آباد: معزولی کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ 13 مارچ 2007 کو پولیس اہلکاروں کی بدسلوکی کے وقت صرف ایک فوٹوگرافر موقع پر موجود تھا جس کی اتاری ہوئی تصویر نے ایک تحریک برپا کر دی۔
فوٹو گرافر سجاد علی قریشی کی اتاری اس تصوی…ر میں پولیس اہلکار چیف جسٹس کو مجرموں کی طرح بالوں سے پکڑ کر گاڑی میں زبردستی بٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ اعلیٰ پولیس حکام قریب خاموش کھڑے ہیں۔ یہ تصویر جو اگلے دن ایک انگریزی اخبار میں شائع ہوئی نے ایک ہنگامہ برپا کرتے ہوئ…ے وکلا تحریک کو نیا رخ دیدیا۔ اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اعلٰی پولیس حکام کو طلب کر لیا، پشاور ہائیکورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں ٹریبونل نے واقعے کی تحقیقات کی۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر سجاد قریشی اس روز ججز کالونی کے باہر ایک مزدور کے بہروپ میں موجود تھے۔ سجاد قریشی نے اس واقعے کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ جسٹس افتخار چوہدر کی اہلیہ اس وقت اعلیٰ حکام سے اپیل کر رہی تھیں کہ ’’افتخار چوہدری چیف جسٹس ہیں ، ان کی تضحیک نہ کی جائے‘‘ سجاد قریشی نے کہا کہ تصویر اتارنے کے بعد پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مجھ سے کیمرا چھیننے کی کوشش کی تاہم میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا
جن سے دلداری جاناں کے قرینے یاد آئیں ایسے تیور بھی مرے لہجہ بیباک میں تھے شہر بے رنگ ! ترے لوگ گواہی دیں گے ہم سےخوش رنگ بھی تیرے خس و خاشاک میں تھے
الوداع ! افتخار محمد چودھری ، چیف جسٹس آف پاکستان سر ! آپ نے عدلیہ کا وقار بلند کیا، …یقیناً آپ بھی اسی معاشرے کے ایک انسان ہیں، آپ سے غلطیاں بھی ہوئی ہونگی ، آپ میں کچھ شخصی کمزوریاں بھی ہونگی ، لیکن جس طرح آپ نے وردی پوشوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور جس طرح عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کیے اس نے 18 کروڑ عوام میں ایک نیا عزم ، نیا حوصلہ پیدا کیا – قوم آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی ، ایک ہیرو کی طرح !!!
پاکستان کے عدالتی نظام سے میں کبھی بھی متفق نہ ھو سکا ، کیوں کہ اس “ملغوبہ” نظام کا کوئی سر پیر نہیں ،لیکن اسکے باوجود افتخار محمد چوھدری یاد رھیں گے ،چیف جسٹس کی عدالت میں خود کو فرعون کی “روحانی ” اولاد سمجھنے والے سول ملڑی اور بیورکریسی کے اعلی افسران کے ماتھے پہ پسینہ ،زیر لب دعا ،اور گھگھیائے افسران کی حلق میں پھنسی آواز یں بتاتی تھیں کہ عوام پر حکمرانی کرنے والے کتنے اسوقت تک ھی بہادر ھیں ،جب تک سوا سیر سے پالا نہ پڑ جائے تمام پھنے خانوں… کو چیف جسٹس نے اکڑ فوں سمیت وقتی طور پر ھی سہی لیکن “سیدھا” ضرور کر دیا تھا ،مجھے تو و٥ افسر بھی نہیں بھولتے جو پروموشنز کے حصول کیلئے پیروں کے پاس جاتے تھے اور”چیف جسٹس” کے “غضب” سے بچنے کے وظیفہ لاتے تھے ،کتنے ھی اعلی افسران کو “سماعت سے قبل “اسپتال” میں داخل ھونا پڑتا تھا ،باوجود کوشش کے چیف جسٹس صاحب لاپتہ افراد کے معاملے پر ملک کے “اصل حاکموں” کو “آئین” کے تابع تو نہ کر سکے البتہ انہیں عدالتی ریکارڈ کی حد تک “ایکسپوز” ضرور کردیا