Pakistan Education Statistics an Eye-Opener

دنیا میں تعلیم کے لیے سرگرم اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 79 فیصد افراد ناخواندہ ہیں اور شرحِ خواندگی کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں 180ویں نمبر پر ہے۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اس رپورٹ میں سنہ 2012 میں 221 ممالک میں عوام کی تعلیمی حالت کا جائزہ لیا گیا ہے۔
 ۔
25 ے 44 برس کے افراد میں ناخواندگی کی شرح 57 اور 45 سے 54 برس کے افراد میں 46 فیصد ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ شرحِ خواندگی 55 سے 64 برس عمر کے افراد میں پائی گئی جن میں سے 62 فیصد لوگ تعلیم یافتہ تھے اور ناخواندگی کی شرح سب سے کم 38 فیصد تھی۔
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق شرحِ خواندگی کے حوالے سے پاکستان جنوبی ایشیا میں صرف افغانستان اور بنگلہ دیش سے اوپر رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2012 میں 70 لاکھ طلبہ سکول اور کالج جا رہے تھے جن میں سے 29 لاکھ بچے پرائمری سکول، 26 لاکھ سیکنڈری سکول اور 15 لاکھ کالج یا یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے۔
یونیسکو کے مطابق پاکستان میں صرف تین فیصد بچے ہی کالج تک پہنچ پاتے ہیں اور ان میں سے بھی صرف ایک فیصد گریجویشن کر پاتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان میں 75 فیصد طلبہ و طالبات نے میٹرک سے قبل ہی تعلیم کو خیرباد کہا اور صوبہ بلوچستان اور سندھ میں تین سے پانچ برس عمر کے بالترتیب 78 اور 72 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔
خیال ر ہے کہ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں سنہ 2006 سے 2012 کے درمیان پرائمری سکولوں کی تعداد میں تقریباً 5,000 تک کی کمی کی گئی اور یہ کمی حکومت کی ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت ہوئی۔
دوسری جانب حکومت خواندگی بڑھانے کی کوششوں سے مخلص ہونے کا دعویٰ بھی کرتی رہی ہے اور صوبہ پنجاب میں تو حکومت نے 100 فیصد خواندگی کے لیے مہم کا آغاز بھی کیا ہے۔

Enhanced by Zemanta

زیر آب تین دن تک زندہ رہنے والے شخص کی کہانی

نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے ہیریسن اوجگبا اوکین بحر اوقیانوس میں تین دن تک تقریباً 100 میٹر زیر آب رہے۔ یہ نہ تو کسی مقابلے میں شریک تھے اور نہ ہی کوئی ریکارڈ بنانا چاہتے تھے بلکہ کشتی کے ڈوبنے کے بعد وہ پانی میں پھنسے رہے تاوقتیکہ امدادی کارکن ان تک پہنچے۔

اوکین ڈوبنے والی اس کشتی پر بحیثیت باورچی سوار تھے جو سمندر میں پھنس جانے والے دیگر جہازوں اور کشتیوں کو کھینچنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

یہ واقعہ مئی میں پیش آیا۔ اس امدادی کارروائی کی وڈیو حال ہی میں انٹرنیٹ پر جاری کی گئی جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دلچسپی لے رہی ہے۔

امدادی کارکن اور غوطہ خور جائے حادثہ پر پہنچے اور وہاں سے چار لاشیں نکالیں۔ یہ تمام لوگ اس وقت خوف اور حیرت کا شکار ہوئے جب پانی میں نظر آنے والے ایک ہاتھ کو پکڑنے کے لیے غوطہ خور آگے بڑھا تو اس ہاتھ نے اسے ہی دبوچ لیا۔

پھر معلوم ہوا کہ یہ ہاتھ اوکین کا تھا جو تین دنوں سے خود کو زیر آب زندہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

اوکین بتاتے ہیں کہ انھوں نے یہ تمام وقت خدا سے وہ دعائیں کرتے ہوئے گزارے جو ان کی بیوی نے انھیں ارسال کی تھیں۔ ’’میرا یقین ہے کہ میں ان دعاؤں کی وجہ ہی سے تین دن تک زیر آب زندہ رہا۔‘‘

امدادی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ اوکین بے حد خوش قسمت تھا کہ اسے آکسیجن حاصل کرنے کے لیے ایک جگہ مل گئی ’’لیکن وہ اور زیادہ دن تک شاید زندہ نہ رہ سکتا۔‘‘

اوکین بتاتے ہیں کہ وہ صبح جلدی بیدار ہونے والوں میں سے ہیں۔ 26 مئی کو بھی وہ صبح ساڑھے چار بجے جاگے اور اس وقت ٹائلٹ میں تھے کہ پہلے کشتی کو ایک جھٹکا لگا اور پھر وہ الٹ گئی۔ ’’میں غنودگی میں تھا ہر طرف اندھیرا تھا۔‘‘

انھوں نے فوراً کشتی سے لائف جیکٹ تلاش کرنا شروع کی لیکن ان کے ہاتھ اس کے علاوہ کچھ سامان اور فلیش لائٹس بھی آگئیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ڈوبتی کشتی کے ایک کیبن میں انھیں کچھ جگہ نظر آئی۔ وہاں وہ سخت سردی میں خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے لگے اور اس دوران انھیں اپنی ماں، اپنے دوست اور سب سے زیادہ اپنی بیوی کا خیال آیا جس سے پانچ سال پہلے ان کی شادی ہوئی تھی۔

’’میں نے خدا کو یاد کرنا شروع کر دیا۔ وہ سب دعائیں جو میں سونے سے پہلے پڑھا کرتا تھا اور میری بیوی نے بائیبل سے جو دعا مجھے بھیجی میں وہ بھی پڑھتا رہا۔‘‘

ان تین دونوں میں اوکین صرف مشروب (کولا) کی ایک بوتل پر گزارہ کرتے رہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ یہ سوچ چکے تھے کہ موت ان کے بہت قریب ہے کہ انھیں ایک کشتی کے انجن کی آواز سنائی دی اور پھر اس کشتی کا لنگر پانی میں گرایا گیا۔ انھوں نے کشتی کے عملے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اولاً وہ ناکام رہے۔

پھر اوکین نے اپنی ڈوبی ہوئی کشتی کے اسٹیل سے بنے ایک حصے کو ہتھوڑے سے بجایا۔ ’’ لیکن میں نے سنا کہ کشتی دور جا رہی ہے اور وہ وہاں سے بہت دور تھے جہاں میں تھا۔‘‘

جب ہالینڈ میں قائم ایک غوطہ خور کمپنی کے کارکنوں نے اوکین کو بچایا اس وقت تک اس کے لواحقین کو یہ بتایا جا چکا تھا کہ ڈوبنے والی کشتی کا کوئی بھی سوار زندہ نہیں بچا۔

Ajrak: A symbol of Sindhi culture and tradition

The best gifts come from the heart, not the store. This is what Arab and Pakistani traditions are all about; we show our respect to our esteemed guests by presenting gifts that represent our culture.
Ajrak — from the Indus Valley tradition of Sindh, Pakistan, is one such item that has rich cultural value.
Ajrak is a block printed cloth with deep crimson red and indigo blue background, bearing symmetrical patterns with interspersed unprinted sparkling white motifs, mostly stars. Made of cotton, its suppleness reminds us of smooth silk. More than a fabric, ajrak is a Sindhi tradition, traceable from the earliest archaeological finds of the old Indus civilization of Moen Jo-Dero. It has been equally popular since time immemorial till today among its urban, rural and nomad users.
Ajrak is literally used in Sindh (Pakistan) from the cradle to the grave. It is used as a hammock for infants, headgear for girls, bridal accessory, a turban and a shawl, a bed cover, a tablecloth, a gift item and a token of respect to honor a guest. Most of the heads of state and dignitaries of Pakistan have used ajrak in their public meetings to show respect and as a token of solidarity for Sindh Province.
To get a first-hand idea of how it is made we visited the small towns of Mityari, Bhit Shah and Hala located in and near Mityari District of Sindh Province in Pakistan. Bhit Shah is famous because of the great Sindhi mystic poet “Shah Abdul Latif Bhitai” whose famous poetic masterpiece “Shah Jo Risalo” occupies a very prominent place in Sindhi literature. A visit to Bhit Shah opens the door to “Sindhology,” the specialization of the Indus (Sindh) valley civilization, as “Egyptology’ is to the ancient Egyptian civilization.
Mitiari is known for ajrak craftsmanship, whereas Hala town is the marketplace of all the handicrafts including ajrak, Sindhi embroidery, and lacquered woodwork, typical glazed tiles in blue and white “Kashi” artwork, terracotta and some typical woven fabrics like “Soosi’.
The urge to mention the stunning beauty of the scenic panorama along the highway during a drive from Karachi to these places is simply irresistible. The misty twilight, the wide stretches of green and yellow mustard fields in full bloom, attractive banana and mango plantations, and widespread lush green fields interspersed with working village girls dressed in luminescent yellow, green, crimson and orange colors with occasional colorful floral nurseries in full bloom are only a few glimpses of the tour.
The legendary Pakistani folk singer “Allan Faqir” with his down-to-earth personality was an inspiring artist with his stylish ajrak attire including his dancing peacock like turban made of ajrak.
Color is the continuous phase of the “music in the color emulsion” of Sindhi society.
The Muslim rulers used to award “Khilat” (an expensive gown) in recognition of the services of their courtiers. Similarly, Muslim Sindhi rulers also continued the tradition and awarded ajrak in recognition of outstanding performances or the valuable services rendered by individuals. It is customarily conferred even today on respectable guests.
Considering the different processes involved, particularly printing, which is the main element of the craft, ajrak-making seems to be a scientific art. The technique of printing allows exclusive absorption of a dye in the desired areas only and prevents absorption on the areas intended to be left uncolored. It seems to be like differential staining used in microscopy wherein different microbes are stained and fixed selectively.
The famous German orientalist Marry Anne Schimmel and Elsa Qazi, a well-known scholar translated Shah Jo-Risalo selectively in verse. Both scholars highlighted in their work the fact that ajrak was very much in use at least in Shah Latif Bhittai’s times. It is a pure spiritual delight to know how beautifully and finely Elsa Qazi captured its essence. Symbolic use of ajrak, camel, saltbush and washing etc. few of Elsa Qazi’s narrations are:
“Like fresh pan-leaves are ajrak (shawls) they
Wear of shimmering emerald silk’
“Beautiful like roses sweet
Are robes of damsels fair?“
(Elsa Qazi from Mumal and Rano)
There was a time when princely Hoat
My clothes to wash did choose;
Now even camel men refuse
To take me with themselves
My gown is at my shoulders torn;
Yet my head is covered with Ajrak
O sisters in Bhambore (Place in Pakistan) fair
What have I now to do?
 
 
 
 

Enhanced by Zemanta

First SMS

First SMS

Enhanced by Zemanta