ہمارے پاؤں میں‌جو رستہ تھا…سلیم کوثر

ہمارے پاؤں میں‌جو رستہ تھا

رستے میں پیڑ تھے

پیڑوں پر جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں

اب وہ اڑٹے اڑتے تھک گئی ہیں

وہ گھنی شاخیں جو ہم پے سایہ کرتی تھیں

وہ سب مرجھا گئی ہیں

اسے کہنا

لبوں پر لفظ ہیں

لفظوں پر کوئی دستاں قصہ کہانی جو اسے اکثر سناتے تھے

کسے جا کر سنایئں گے

بتایئں گے کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے

درلب بوسہء اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے

کبھی بکھری ہوئی زلفوں میں‌ہم

مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے

چراغ اور آیئنے کے درمیاں کب سے سر ساحل

کھڑے موجوں‌کو تکتے ہیں

اسے کہنا

اسے ہم یاد کرتے ہیں

اسے کہنا ہم آکر خود اسے ملتے مگر مستقل بدلتے

موسموں کے خون میں رنگین ہیں ہم

ایسے بہت سے موسموں‌کے درمیاں تنہا کھڑے ہیں

جانے کب بلاوا ہو! ہم میں آج بھی اک عمر کی

ورافتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے ،وہ بازی جو

بساط دل پہ کھیلی تھی ابھی ہم نے جیتی ہے

نہ ہاری ہے

اسے کہنا

کبھی ملنے چلا آئے

اسے ہم یاد کرتے ہیں

سلیم کوثر

فتح بیت المقدس

فتح بیت المقدس_______
حطین کی فتح کے بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا ایک ہفتہ تک خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دیے اور رحم کی درخواست کی۔ بیت المقدس پورے 91 سال بعد دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور تمام فلسطین سے مسیحی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ بیت المقدس کی فتح صلاح الدین ایوبی کا عظیم الشان کارنامہ تھا۔ اس نے مسجد اقصٰی میں داخل ہوکر نور الدین کا تیار کردہ منبر اپنے ہاتھ سے مسجد میں رکھا۔ اس طرح نور الدین کی خواہش اس کے ہاتھوں پوری ہوئی۔
صلاح الدین نے بیت المقدس میں داخل ہوکر وہ مظالم نہیں کئے جو اس شہر پر قبضے کے وقت عیسائی افواج نے کئے تھے ۔ صلاح الدین ایک مثالی فاتح کی حیثیت سے بیت المقدس میں داخل ہوا۔ اس نے زر فدیہ لے کر ہر عیسائی کو امان دے دی اور جو غریب فدیہ نہیں ادا کر سکے ان کے فدیے کی رقم صلاح الدین اور اس کے بھائی ملک عادل نے خود ادا کی۔
بیت المقدس پر قبضہ کے ساتھ یروشلم کی وہ مسیحی حکومت بھی ختم ہوگئی جو فلسطین میں 1099ء سے قائم تھی۔ اس کے بعد جلد ہی سارا فلسطین مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔
بیت المقدس پر تقریباً 761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔
1948ء میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کرلیا ۔

Enhanced by Zemanta

Dont Forget Advise by Sarwat Jamal Asmai

Dont Forget Advise by Sarwat Jamal Asmai

جون ایلیا: باغی شاعر ظفر سید

ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار
پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم
کر کے اک دوسرے سے عہدِ وفا
آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم
جون ایلیا
ظفر سید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اردو میں شاعروں کی کوئی کمی نہیں، ایسے حالات میں کسی ایسے شاعر کا اپنا الگ مقام بنا لینا حیران کن ہے جس کا اکلوتا شعری مجموعہ ان کی زندگی کے 60ویں برس سے پہلے شائع نہیں ہو سکا۔
لیکن دیکھا جائے تو یہ بات اتنی حیران کن بھی نہیں، کیوں کہ جون ایلیا ایک ایسے منفرد اور یگانہ شاعر ہیں جس کا انداز نہ تو پہلے گزرنے والے کسی شاعر سے ملتا ہے اور نہ ہی بعد میں آنے والا کوئی شاعر ان کے لہجے کی تقلید کر سکا۔ وہ اپنے سلسلے کے آپ ہی موجد اور آپ ہی خاتم ہیں۔
جون کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ عشق و محبت کے موضوعات کو اردو غزل میں دوبارہ لے آئے۔ غزل کا روایتی مطلب بے شک ’عورتوں سے باتیں کرنا‘ ہو، لیکن عالمی تحاریک، ترقی پسندی، جدیدیت، وجودیت اور کئی طرح کے ازموں کے زیرِ اثر جون ایلیا کی نسل کے بیشتر شاعروں کے ہاں ذات و کائنات کے دوسرے مسائل حاوی ہو گئے۔
جون نے اس کسی حد تک نظرانداز شدہ رومانوی مضامین کو دوبارہ اپنی غزل کا موضوع ضرور بنایا لیکن وہ روایت کے رنگ کے رنگ میں نہیں رنگے، بلکہ انھوں اس قدیم موضوع کو ایسے منفرد انداز سے برتا کہ ان کی آواز پرانی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ بیک وقت نئی بھی ہے۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ کے ایک علمی اور ادبی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے بھائی رئیس امروہوی بھی نمایاں شاعر تھے اور انھوں نے جنگ اخبار میں روزانہ قطعہ لکھ کر شہرت حاصل کی۔
جون کے ایک اور بھائی سید محمد تقی تھے جو نامور صحافی گزرے ہیں۔ اس کے علاوہ جون کے بھانجے صادقین تھے، جو ممتاز مصور اور خطاط ہونے کے ساتھ رباعی کے عمدہ شاعر بھی تھے۔
جون ایلیا کو اقدار شکن، نراجی اور باغی کہا جاتا ہے۔ ان کا حلیہ، طرزِ زندگی، حد سے بڑھی ہوئی شراب نوشی، اور زندگی سے لاابالی رویے بھی اس کی غمازی ہوتی تھی۔ لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اس طرزِ زندگی کو اپنے فن کی شکل میں ایسے پیش کیا شخص اور شاعر مل گئے اور کہ من تو شدی و تو من شدی والی کیفیت پیدا ہو گئی۔
تم بنو رنگ، تم بنو خوش بُو
ہم تو اپنے سخن میں‌ ڈھلتے ہیں
اور اس سخن میں وہ یوں ڈھلے کہ جیسا باغیانہ رویہ انھوں نے دنیا سے اپنایا تھا وہ محبوب سے بھی اختیار کر لیا:
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا؟
یہ روایتی غزل کے شاعر کا مفعولی، شکست خوردہ لہجہ نہیں ہے۔ یہ وہ عاشق نہیں ہے جو محبوب کے سامنے بچھ بچھ جاتا ہے اور اس کے ایک اشارے پر دل، کلیجہ اور جگر نکال کر سامنے دھر دیتا ہے۔ بلکہ اسے محبوب سے ’دھول دھپا‘ کرنے کے لیے ’عذرِ مستی‘ کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی:
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا
تجھ کو کہاں کہاں نہ گھماتا رہا ہوں میں
یہ شعر اور کون کہہ سکتا تھا؟
یاسمن، اس کی خاص محرمِ راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی!
محبوب کے ساتھ ان کا بے باکانہ اردو میں بے حد نرالا ہے۔ یہ بے باکی بعض اوقات جارحیت تک میں بدل جاتی ہے۔
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منھ نوچ لے کوئی
اور اس شعر کا کھلا کھلا ہرجائی پن ملاحظہ ہو:
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ھوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ھوں میں
یہ اشعار نہ صرف اپنے مضمون بلکہ انداز اور اسلوب کے لحاظ سے بھی چونکا دینے والے ہیں۔
جون نے جو بے تکلفانہ اور لاگ لپٹ سے پاک انداز محبوب سے اپنا رکھا تھا، وہ دوسرے موضوعات کو بھی اسی لاٹھی سے ہانکتے ہیں:
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟
اسی غزل کا ایک اور شعر ضرب المثل بن گیا ہے، یا اگر نہیں بنا تو جلد ہی بن جانا چاہیے:
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا؟
جون نے اپنی زندگی بے حد بے پروائی سے گزاری۔ وہ خود کہتے ہیں:
نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم؟
شاید اسی لیے انھوں نے مجرمانہ حد تک اپنی شاعری کی نشر و اشاعت سے پہلو تہی کی۔ لیکن اس کے باوجود دنیا ان کی پروا کرنے پر مجبور ہے اس لیے آج انھیں رزقِ خاک بنے ہوئے دس برس گزر گئے لیکن اردو دنیا ان کی یاد کو اب بھی سینے سے لگائے ہوئے ہے۔