میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا

میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا
میرے بعد نوجوانو ….. یہ جہاد کرتے رہنا
جہاں طلحہ اور حزیفہ، عدنان نے جان لٹائی
چلے موت کے سفر پر راہ_حریت کے راہی
…وہ یقین_غازیانہ وہ خودی کی بے پناہی
میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا
میرا شوق میرے جزبے کبھی یاد کرتے رہنا
بدعاۓ غائبانہ مجھے شاد کرتے رہنا
ہے جہاد صبر میں بھی یہ جہاد کرتے رہنا
میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا
میرے تن کا ذرہ ذرہ جہاں جا کے کام آۓ
میری خواہش شہادت کوئی معجزہ دکھاۓ
نہ بہانا اشک جب بھی میری لاش کوئی لاۓ……!!!
نہ بہانا اشک جب بھی میری لاش کوئی لاۓ……!!!
میں ذرا وہاں چلا ہوں …………….. کبھی یاد کرتے رہنا

Enhanced by Zemanta

جو راہ وفا پہ چل چل کر

وہ چہرے میں نے دیکھے ہیں

جو راہ وفا پہ چل چل کر

اک روز بہت تھک جاتے ہیں

لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر

وہ اپنے زخم چھپاتے ہیں

…ان گہری جھیل سی آنکھوں میں

کچھ موتی سے بن جاتے ہیں

ان چہروں سے میں کہتا ہوں

مجھے اپنے پیارے رب کی قسم

تم لوگ بہت

خوش قسمت ہو

اس راہ کے دکھ اس راہ کے غم

قسمت والوں کو ملتے ہیں

یہ چشم نم، یہ آلودہ قدم

دولت والوں کو ملتے ہیں

یہ درد کے ساغر، جام و جم

نسبت والوں کو ملتے ہیں

اس راہ میں رسوائی کے علم

عزت والوں کو ملتے ہیں

یہ چہرے جب بھی دیکھتا ہوں

میری آنکھوں کے آگے

وہ منظر گھوم سا جاتا ہے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوح ازل میں لکھا ہے

جب شاہ گدا بن جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

اس روز تمہارے یہ چہرے

اک چاند کی صورت چمکیں گے

اس روز تمہاری ہی خاطر

رستوں کو سجایا جاۓ گا

پلکوں کو بچھایا جاۓ گا

خوشبو کو لٹایا جاۓ گا

تم لوگ بہت خوش قسمت ہو

مجھے اپنے پیارے رب کی قسم

تم لوگ بہت خوش قسمت ہو۔

Enhanced by Zemanta

ملالہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اگلی کتاب "نظریہ پاکستان" پر لکھوائے گی