کاش ہم کھل کے زندگی کرتے! محسن نقوی

کاش ہم کھل کے زندگی کرتے!
عمر گزری ہے خودکشی کرتے!!
بجلیاں اس طرف نہیں آئیں
ورنہ ہم گھر میں روشنی کرتے
کون دشمن تری طرح کا تھا؟
اور ہم کس سے دوستی کرتے؟
بجھ گئے کتنے چاند سے چہرے
دل کے صحرا میں چاندنی کرتے
عشق اُجرت طلب نہ تھا ورنہ
ہم ترے در پہ نوکری کرتے
اس تمنا میں ہو گئے رسوا
ہم بھی جی بھر کے عاشقی کرتے
حُسن اس کا نہ کھل سکا محسن
تھگ گئے لوگ شاعری کرتے
محسن نقوی

..لوگ رخصت ہوۓ کب یاد نہیں ناصر کاظمی…

سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوۓ کب یاد نہیں
اوّلیں قُرب کی سرشاری میں
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں
دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں
وہ ستارہ تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں
کیسی ویراں ہے گزرگاہِ خیال
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں
بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں
ایسا اُلجھا ہوں غمِ دنیا میں
ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں
رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
یاد ہے سیرِ چراغاں ناصر
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
ناصر کاظمی…

Enhanced by Zemanta