جدا ہونے کے صدمے کو

جدا ہونے کے صدمے کو
اگرچہ ہنس کے سہنا تھا
اسے رسمی ہی سہی لیکن
خدا حافظ تو کہنا تھا
زبان میں اتنی طاقت تھی
لیکن صحرا کی وحشت تھی
میری بچپن سے عادت تھی
مجھے خاموش رہنا تھا
وہ کچا گھر وہ بارش میں
ہماری جاگتی آنکھیں
ہمیں جاتی ہوئی برکھا سے
کچھ بہ کچھ تو کہنا تھا
ہم رسم وفا اس سے
نبھاتے بھی کہاں تک
ہمارے خواب کے گھر تھے
ہمیں تو ان میں ہی رہنا تھا

Enhanced by Zemanta

محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے

محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
زمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے

ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں
کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے…

انہیں اپنا نہیں سکتا، مگر اتنا بھی کیا کم ہے
کہ کچھ مدت حسیں خوابوں میں کھو کر جی لیا میں نے

بس اب تو دامنِ دل چھوڑ دو بیکار امیدو!
بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے

Enhanced by Zemanta