شہید ملت لیاقت علی خان

کالم نگار | محمد آصف بھلّی
******************************
انشاءاللہ خاں انشاءکا ایک شعر ہے جو ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے….
بھلاگردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشائ
غنیمت ہے جو ہم صورت یہاں دوچار بیٹھے ہیں

عید کے دوسرے روز ہم چند احباب ایک جگہ جمع ہوئے یہ کوئی باقاعدہ تقریب نہیں تھی لیکن گفتگو کا موضوع شہید ملت لیاقت علی خاں کی شخصیت بن گئی کیونکہ 16اکتوبر کو ان کی برسی تھی۔لیاقت علی خاں بانی¿ پاکستان محمد علی جناح کے معتمد ترین ساتھی اور قائداعظم کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے سب سے مقبول اور قابل احترام لیڈر تھے۔ قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں ملک و قوم کیلئے انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں۔ وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔لیاقت علی خاں پاکستان کی بے لوث خدمت کیلئے زندہ رہے اور پاکستان کی خاطر ہی انہوں نے اپنی جان قربان کردی۔ تحریک پاکستان کے دور میں غلامی کی طویل اور تاریک رات میں شمعِ آزادی کو روشن کرنے کیلئے لیاقت علی خان کے کردار کو قائداعظم بھی تحسین کی نظر سے دیکھتے تھے اور لیاقت علی خاں کو بانی¿ پاکستان اپنا داستِ راست قراردیتے تھے۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خاں کو پاکستان کا پہلا وزیراعظم منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وزارت دفاع کا عہدہ بھی اُن کے پاس تھا مگر لیاقت علی خاں ایک ایسے مرد مومن اور مرد درویش تھے کہ وزارت عظمیٰ کے منصب کی چمک دمک ان کیلئے بے معنی تھی۔انہوں نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا اور یہ بات اُن کے دل سے نکلی تھی کہ ” اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ میں بطور چپڑاسی پاکستان کی بہتر خدمت کر سکتا ہوں تو میں انکار نہیں کروں گا“۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
لیاقت علی خاں کی اپنے ملک و قوم کیلئے ایثار اور قربانی کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک بہت بڑی ریاست کے نواب اور مملکت پاکستان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اُن کی شہادت کے بعد بینک میں ان کا چھوڑا ہوا اثاثہ صرف 1250 روپے پر مشتمل تھا۔بھارت میں انہوں نے کروڑوں روپے کی جائیدادیں چھوڑیں مگر پاکستان میں اس کا کوئی کلیم داخل نہیں کیا جب وزیراعظم کے طورپر وہ شہید ہوئے تو ان کے یتیم بچوں اور بیوہ کے رہنے کیلئے ان کی ملکیت میں 5مرلے کا مکان بھی نہیں تھا۔لیاقت علی خاں کا اس امر پر پختہ یقین تھا کہ پاکستان کی بنیاد اسلامی اخوت، مساوات اور معاشی انصاف پر رکھی گئی ہے۔ان کی شدید خواہش تھی کہ یہ جو ایک گروہ دوسرے گروہ کا استحصال کیے جارہا ہے۔امیر طبقہ امیر ترین بنتا جارہا ہے اور غریب پہلے سے بھی زیادہ غریب ہوگئے ہیں۔دولت کم سے کم ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جارہی ہے یہ سلسلہ پاکستان میں ختم ہوجاناچاہئے۔لیاقت علی خاں پرائیویٹ ملکیت کے خلاف نہیں تھے لیکن دولت کی گردش صرف امیر طبقے کے درمیان محدود ہوکر رہ جائے اس کے وہ سخت مخالف تھے قیام پاکستان سے پہلے عبور ی حکومت کے وزیر خزانہ کے طورپر انہوں نے غریب آدمی کا بجٹ پیش کرکے ایک قابل تقلید مثال قائم کردی تھی۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
لیاقت علی خاں دفاع پاکستان کے معاملہ میں بہت حساس تھے۔جب جولائی 1951ءمیں بھارت نے اپنی نوے فیصد فوجیں پاکستان کی سرحدوں پر انتہائی جارحانہ انداز میں کھڑی کردیں تو لیاقت علی خاں نے ایک جلسہ¿ عام میں اپنی تاریخی تقریر میں فضا میں اپنا مکّا لہراتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک پانچ انگلیاں علیحدہ علیحدہ ہوں تو ان کی قوت کم ہوتی ہے لیکن جب یہ مل کر مُکا بن جائیں تو یہ مُکا دشمن کا منہ توڑ سکتا ہے۔لیاقت علی خان کا یہ تاریخی مُکا پوری قوم کیلئے اتحاد و قوت کی علامت بن گیا۔لیاقت علی خاں نے بھارت پر واضح کردیا تھا کہ ہم کسی کے خلاف جنگ نہیں لڑناچاہتے مگر امن کے نام پر ہم اپنی آزادی اور پاکستان کو قربان نہیں کرسکتے۔لیاقت علی خاں نے بھارتی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں یہ معلوم نہیں کہ ہم تلواروں اور توپوں کے بھروسے پر نہیں بلکہ مسلمان اللہ کے فضل سے جہاد میں حصہ لیتا ہے اور باطل کبھی مسلمان قوم کو شکست نہیں دے سکتا۔
ایک اور موقع پر تقریر کرتے ہوئے لیاقت علی خاں نے کہا تھا کہ ” میرے پاس کوئی مال نہیں صرف ایک جان ہے جو پاکستان کیلئے وقف ہے۔ اگر پاکستان کی حفاظت، بقا اور عزت کیلئے قوم کو خون بہانا پڑا تو لیاقت کا خون اس میں شامل ہوگا“۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
لیاقت علی خاں کی اس تقریر کا ایک ایک لفظ درست ثابت ہوا۔انہوں نے جو کہا تھا اس پر عمل بھی کرکے دکھادیا۔ اپنی جائیدادیں اور دھن دولت تو وہ قیام پاکستان کیلئے پہلے ہی قربان کرچکے تھے پھر انہوں نے اپنے جسم کے لہو کا آخری قطرہ بھی پاکستان پر نچھاور کردیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لیاقت علی خاں گفتار کے غازی نہیں بلکہ پیکرِ عمل تھے۔وہ قائداعظم کے سچے جانشین ثابت ہوئے اور اُن جیسے اخلاص و دیانت کی مثال پاکستان کا اور کوئی لیڈر پیش نہیں کرسکتا….
وہ صورتیں الٰہی، کس ملک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
**********************
 

Enhanced by Zemanta

قواعد و ضوابط کے کرشمے


 کالم نگار | اسرا ر بخاری

جنرل منٹگمری غالباً دنیا کا واحد فوجی کمانڈر تھا جسے ڈبل فیلڈ مارشل ہونے کا اعزاز حاصل تھا جس کی کیپ پر فیلڈ مارشل کے دو بیچ لگے ہوئے تھے وہ جنرل ایوب کی طرح از خود فیلڈ مارشل نہیں بن گیا بلکہ اسے اعلیٰ ترین فوجی خدمات کے عوض برطانوی حکومت نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ان خطابات سے نوازا تھا اور یہ واقعہ تو بہت سوں کے علم میں ہوگا کہ جنرل منٹگمری نے برطانیہ کے محکمہ دفاع کو خط لکھا جس میں برطانیہ کیلئے اپنی اعلیٰ ترین فوجی خدمات کا تذکرہ کیا اور یہ درخواست کی کہ وہ کرایہ کے ایک مکان میں رہتا ہے اور اسے ملنے والی پنشن گزر اوقات کیلئے ناکافی ہے لہٰذا اسے ایک قطعہ اراضی الاٹ کردیا جائے تاکہ وہ اپنا ذاتی گھر بنا سکے محکمہ دفاع کی جانب سے اس کی درخواست منظور کرنے سے معذرت ظاہر کی گئی اور فوجی خدمات کے حوالے سے اس پر واضح کیا گیا کہ یہ خدمات اس نے مفت انجام نہیں دیں بلکہ اس کیلئے برطانوی عوام سے تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کی ہیں جنرل منٹگمری کا خیال یوں آیا کہ ایک ریفرنس کے سلسلے میں اکتوبر نومبر اور دسمبر 1999ءکے اخبارات کی فائل دیکھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کے ٹیلی ویژن خطاب کی جو خبر نظر سے گزری جس میں جنرل صاحب نے اپنے اثاثوں کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو آگاہ کیا ہے کہ جب وہ بریگیڈئر بنے تو انہیں ایک پلاٹ ملا پھر میجر جنرل ہوئے تو ایک پلاٹ ملا پھر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ پر ترقی ملی تو ایک پلاٹ ملا اور آرمی چیف کے منصب پر فائز ہوئے تو پلاٹ ملا اس طرح ان کے کل اثاثوں کی مالیت 8کروڑ ہے۔

بلاشبہ ان کے یہ اثاثے کسی لحاظ سے ناجائز نہیں ہیں فوجی قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہے اور واضح رہے یہ قواعد و ضوابط 1947ءکے بعد تشکیل نہیں پائے بلکہ پہلے سے موجود تھے ہمارا پورا نظام حکومتی، سیاسی، عدالتی اور تعلیمی برطانوی نظام کا چربہ ہے اگرچہ ہمارے آئین میں درج ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایاجائے گا لیکن اس آئین نے سود کو جائز قرار دے رکھا ہے اسی عدالتی نظام نے سود کے حق میں حکم امتناعی دے رکھا ہے اور اسی حکومتی نظام نے سود کو ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے جسے رب السموات و الارض نے اپنے ساتھ براہ راست جنگ قرار دیا ہے اور یہ بھی قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہی ہے کہ واپڈا کا چیئر مین بننے والے ہر شخص کو پوش علاقے میں دو کنال کا پلاٹ ملتا ہے یہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہے اس لئے ہر لحاظ سے جائز ہے اسی طرح مختلف اداروں کے اعلیٰ حکام کیلئے مراعات بھی قواعد و ضوابط کے مطابق ان کا استحقاق قرار دی گئی ہیں کیا یہ دلچسپ بات نہیں ہے کہ برطانیہ راج میں برصغیر میں جو قوانین بالخصوص اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کیلئے مراعات اور استحقاق کے حوالے سے قواعد و ضوابط بنائے خود برطانیہ کے اعلیٰ حکام کو ان کے ثمرات سے محروم رکھا گیا ہے تب ہی تو ٹونی بلیئر بحیثیت وزیراعظم دس دن کی چھٹیاں گزارنے جاتا ہے تو وہ خود خاتون اول اور دونوں بچے اپنے بیگ اٹھائے جہاز میں سوار ہوتے ہیں اس کی آمد پر نہ عام راستے بند کئے جاتے ہیں نہ ائر پورٹ پر کرفیو کا سماں ہوتا ہے مجھے خود اس تلخ تجربہ سے گزرنا پڑا وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کیلئے راستہ بند ہونے کے باعث میں ایک گھنٹہ سے زائد کراچی ائر پورٹ سے صرف 8,7 کلو میٹر کے فاصلے پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ٹریفک میں پھنسا رہا جس کے نتیجے میں میری 6بجے کی فلائٹ نکل گئی مجھے دو ہزار روپے فلائٹ تبدیل کرنے کیلئے دینے پڑے جبکہ 6بجے سے رات 12بجے تک کا وقت بھی کراچی ائر پورٹ پر گزارنا پڑا تھا۔ برطانیہ کی خاتون اول کو بلا ٹکٹ سفر کرنے پر دس پونڈ جرمانہ ہوجاتا ہے کیا پاکستان میں کسی خاتون اول کے حوالے سے ایسی کوئی مثال ممکن ہے برطانیہ میں وزیراعظم کیلئے بھی چپڑاسی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے انگریز نے برصغیر میں چپڑاسی کا کم ترین سرکاری عہدہ متعارف کرایا بلکہ اسے کلاہ اور شیروانی پہنا کر مسلمان نوابوں اور جاگیر داروں کی تذلیل کا سامان کیا ہم نے چپڑاسی کو شیروانی اور جناح کیپ پہنا کر اپنی خود تذلیل کا سامان کررکھا ہے اور

بصد سامان رسوائی سرِ بازار می رقصم

کی تصویر بنے ہوئے ہیں ہم نے مغرب کے پارلیمنٹ کے تصور کو اپنایا جسے اسلام کے شورائی نظام کا ہم پلہ قرار دے رکھا ہے جس کی قانون سازی سے بہنے والے ثمرات کے چشموں کا رُخ ملک کے ”غریب عوام“ کی بجائے ” امیر عوام“ کی جانب ہوتا ہے یادش بخیر ایک موقع پر جہاں بزرگ صحافی شورش ملک فاروق اعظم، سعود ساحر، لطیف آذر اور یہ ناچیز بھی موجود تھے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید حسن میر نے بڑے فخر سے بتایا کہ آج بھٹو صاحب نے انہیں طلب کیا اور راولپنڈی سے ٹیکسلا تک خود طوفان کی طرح گاڑی ڈرائیو کی حتیٰ کہ 16اشارے توڑ دئیے جناب شورش ملک نے چٹکی لی ” میر صاحب بھٹو صاحب کو تو بہت کچھ توڑنے کا تجربہ ہے “ اس معنی خیز جملے سے سب محظوظ ہوئے جبکہ میر صاحب کے ہونٹوں پرکھسیانی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

Enhanced by Zemanta

Aesi Besharmi By Ansar Abbasi

Aesi Besharmi By Ansar Abbasi
Enhanced by Zemanta