Tauqir Sadiq Arrested


  1. پاکستان میں آئل اور گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
    انہیں ساڑھے 82 ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں مرکزی ملزم کی حیثیت سے مقدمہ کا سامنا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پشی کے دوران انہوں نے نہ صرف صحت جرم سے انکار کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ مجھے جان سے مارنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جو کچھ نہیں کیا وہ بھی قبول کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
    توقیر صادق کو سخت سیکورٹی میں ہتھکڑیاں لگا کر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں لایا گیا۔
    ان کے خلاف کرپشن کیس کی سماعت احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے کی۔
    سماعت کا آغاز ہوا تو توقیر صادق نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے دوران مجھ پر تشدد کیا گیا، مجھے مکے اور ٹھوکریں ماری گئیں اور نیب کی جانب سے مجھے ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
    توقیر صادق نے کرپشن کیس میں ملوث ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف ابھی تک چارج شیٹ پیش نہیں کی گئی۔
    انہوں نے کہا کہ میرے اوپر الزامات لگانے والوں میں کون کون ملوث ہیں جلد بتاؤں گا، بڑے بڑے نام بے نقاب کروں گا۔
    اس موقع پر تفتیشی افسر وقاص احمد نے توقیر صادق کی جانب سے تشدد کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ سابق اوگرا چیئرمین جھوٹ بول رہے ہیں۔
    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انٹرپول نے کہا تھا توقیر صادق کا خیال رکھنا کہیں خود کو نقصان نہ پہنچائے،اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
    عدالت کو بتایا گیا کہ توقیر صادق گرفتاری سے بچنے کے لیے افغانستان رکشے کے ذریعے فرار ہوئے۔
    عدالت نے توقیر صادق سے استفسار کیا کہ وہ افغانستان جانے کے لیے انہوں نے رکشہ کیوں استعمال کیا جس پر توقیر صادق نے دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میرا دل چاہ رہا تھا کہ رکشے پر سفر کروں‘۔
    اس دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے توقیر صادق کا 14 روزہ ریمارنڈ دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے توقیر صادق کا چودرہ روزہ ریمانڈ دے دیا جب کہ ان کا طبی معانئہ بھی کرانے کی ہدایت کی۔
    عدالت میں سماعت ختم ہونے کے بعد میگا کرپشن اسکینڈل کے مرکزی ملزم کو دوبارہ نیب دفتر منتقل کردیا گیا۔
    یاد رہے کہ نیب نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ توقیر صادق نے اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو 82 ارب روپے کا نقصان پہنچایا،ملزم نے اوگرا کے ایشیائی ترقیاتی بنک اور عالمی بینک کے ساتھ معاہدوں کی خلاف ورزی کی، ریگولر آمدن کو غیر ریگولر آمدن میں تبدیل کردیا۔
    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ توقیر صادق نے بھاری رشوت کے عوض متعدد سی این جی اسٹیشنز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت دے دی، نیا سی این جی اسٹیشن لگانے کی بولی 5 لاکھ روپے مقرر تھی، اوگرا میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تقرریاں کی گئیں اور اسٹاک مارکیٹ کی بڑی مچھلیوں کو عوامی مفاد قربان کر کے فائدہ پہنچایا۔S    e

Enhanced by Zemanta

Growing World Poverty and Industrialized world

صرف ایک بین الاقوامی موبائل کمپنی کے عہدیداروں کے زیراستعمال گاڑیاں فروخت کرنے سے جو رقم حاصل ہوگی، اُس سے روانڈا، برونڈی اور ایتھوپیا کا قحط دُور ہوسکتا ہے۔

دنیا کی دس بڑی کمپنیاں اپنے دفتروں میں سالانہ جتنی اسٹیشنری استعمال کرتی ہیں اس کی مالیت دنیا کے پندرہ غریب ملکوں کے تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔

جاپان میں ہر سال 35 ارب ڈالر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ کیے جاتے ہیں، یہ دنیا کی صحت کے کل بجٹ کی ایک چوتھائی رقم ہے۔

شراب بنانے والی محض چار کمپنیاں اپنے منافع سے دنیا کے تمام نشئی افراد کا علاج کرسکتی ہیں۔ صرف ایک ملٹی نیشنل کمپنی چاہے تو دنیا بھر کی بارودی سرنگیں صاف کی جاسکتی ہیں۔

صرف ایک کمپنی پوری دنیا کے معذوروں کو مصنوعی اعضاء بنا کر دے سکتی ہے۔ ایک کمپنی اگر اپنا ایک سال کا منافع دنیا بھر میں تقسیم کردے تو ہر شخص کو ایک کار مفت فراہم ہوسکے گی!

اس طرز کی معلومات کا سمجھیے کہ ایک دفتر موجود ہے، جس میں سے ہم نے آپ کے سامنے صرف ایک جھلک ہی پیش کی ہے!

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملٹی نیشنل کمپنیز ایسا کریں گی؟

کیا وہ دنیا سے غربت، بھوک، افلاس اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوں گی؟

اور دنیا کیا واقعی جنت کا ایک نمونہ بن جائے گی؟

جی نہیں!

ایسا ہرگز نہیں ہوگا!

اس لیے کہ سرمایہ پرستوں کی طرزِ فکر تو یہ ہے کہ غریبوں کے ہاتھ سے لقمہ بھی چھین لیا جائے!

دنیا کو عالمی گاؤں کے طور پر متعارف کرانا اور WTO کے قوانین کا نفاذ کا مقصد یہی ہے کہ وسائل پر عالمی سطح کے سرمایہ داروں کی مکمل اجارہ داری قائم ہوجائے، مزید یہ کہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے تہذیبی تصادم کا شوشہ بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔ درحقیقت تہذیبی تصادم ملٹی نیشنلزکا اسپانسرڈ پروگرام ہے، جو بہت باریک بینی کے ساتھ اور برسوں کی سوچ بچار کے بعد تشکیل دیا گیا۔

جمییل خان

 
Growing World Poverty and Industrialized world
 

Enhanced by Zemanta

ﺍﮮ ﺟﺬﺑﮧ ﺩﻝ ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﻮﮞ

ﺍﮮ ﺟﺬﺑﮧ ﺩﻝ ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭ ﮔﺎﻡ ﭼﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﻨﺰﻝ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺧﻠﺶ ﭼﻞ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ
ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﺐ ﺭﻧﮓ ﭘﮧ ﻣﺤﻔﻞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻃﻮﻓﺎﮞ ﺁﻧﮯ ﺩﮮ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺎ ﺧﺪﺍ ﺧﻮﺩ ﺧﺎﻓﻆ ﮨﮯ
ﻣﺸﮑﻞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﻮﺟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﺎﺣﻞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﺱ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺭﻭﻧﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺟﺐ ﺩﻝ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﮮ ﺭﺍﮨﺒﺮ ﮐﺎﻣﻞ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﭩﮑﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﺐ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﻨﺰﻝ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﮨﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺩﮮ ﻟﯿﻨﺎ
ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﭘﯿﺶ ﺟﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮈﮬﻮﻧﮉﻭﮞ ﮔﺎ ﭼﺸﻢ ﮐﺮﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﮮ ﺳﺘﻢ ﺑﺎﻻﺋﮯ
ﺳﺘﻢ
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺍﮮ ﺟﺬﺑﮧ ﻏﻢ ﮐﮧ ﻣﺸﮑﻞ ﭘﺲ ﻣﺸﮑﻞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ

Democracy by Ansar Abbasi

Democracy by Ansar Abbasi

Enhanced by Zemanta